دامن گیری
معنی
١ - حمایت چاہنا، مدد چاہنا؛ دوستی، محبت۔ "دوسرے درجہ کے فن کار تو، سیل انقلاب، طوفان زمانہ، تعصب دبستان، دامن گیری مقام کی وجہ سے ساحل مراد تک نہیں پہنچ سکتے۔" ( ١٩٥٨ء، تنقیدی نظریات، ٢٤٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دامن' کے ساتھ فارسی مصدر 'گرفتن' سے صیغہ امر 'گیر' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٣٩ء سے "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - حمایت چاہنا، مدد چاہنا؛ دوستی، محبت۔ "دوسرے درجہ کے فن کار تو، سیل انقلاب، طوفان زمانہ، تعصب دبستان، دامن گیری مقام کی وجہ سے ساحل مراد تک نہیں پہنچ سکتے۔" ( ١٩٥٨ء، تنقیدی نظریات، ٢٤٣ )